رئیس الجامعہ کا پیغام

رئیس الجامعہ کا پیغام

جامعہ کے ایماء پر میں آپ کو گورنمنٹ کالج ویمن یونی ورسٹی میں خوش آمدید کہتی ہوں جو کہ سیال کوٹ کی فروغ تعلیم میں اپنا کردار آپ ہے۔ ۱۹۵۱ ؁ء میں کالج کے طور پر ابھرنے والا یہ ادارہ سیال کوٹ میں اعلیٰ تعلیم کی سب سے قدیم درس گاہ ہے۔ ادارہ ہذا کی ابتداء کالج سے ہوئی۔یہ سیال کوٹ کے امتیازی اور انفرادی تعلیمی ادارے کے طور پر سامنے آیا۔ ۲۰۱۲

؁ء میں کالج ہذا کو جامعہ (یونی ورسٹی) کا درجہ دے دیا گیا۔

گورنمنٹ کالج خواتین یونی ورسٹی سیال کوٹ کے ادبی ورثے کے تحفظ کی نشوونما میں کلیدی کردار کی حامل ہے۔ یہ ورثہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ گورنمنٹ کالج خواتین یونی ورسٹی مخدوش حالات ، نامناسب پس منظر اور محدود وسائل ہونے کے باوجود یہ سیالکوٹ کی طالبات کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہی۔ نیا ادارہ ہونے کے باوجود ہماری طالبات دورِ حاضر کے تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔

گورنمنٹ کالج خواتین یونی ورسٹی نے مختلف شعبہ جات میں معیارتعلیم کو فروغ دینے میں اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ گورنمنٹ کالج خواتین یونی ورسٹی نے معیاری تعلیم کے اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں اور طالبات کو اپنی متوجہ کیا ہے۔ بنا بریں ہمہ انڈر گریجویٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج خواتین یونی ورسٹی نے اب شعبہ اُردو، معاشیات، اسلامیات، سیاسیات اور انگریزی میں بی ،ایس(چار سالہ پروگرام) ایم،اے اور ایم،فل کے پروگرام کا آغاز کیا ہے۔

محولہ بالا شعبہ جات میں نصاب کو جدید تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کیا جاتاہے تاکہ طالبات تعلیمی تشنگی بجھانے کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی ضرورتوں کو بھی مکمل کر سکیں۔
خوش قسمتی سے جامعہ ہذا محنتی ،اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ سے مزّین ہے جو طالبات کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی پاسداری اور باشعور شہری بنانے ،تعلیمی جستجو کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔گورنمنٹ کالج خواتین یونی ورسٹی سیال کوٹ کی اولین خواتین یونی ورسٹی ہے۔درحقیقت عالم میں اس وقت اس امر کو محسوس کیا جاتا ہے کہ مکمل ترقی خواتین کی بھرپور شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمارا اولین مقصد خواتین کی فکری اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے اور انھیں بہترین اعلیٰ تعلیم کے ذریعے کامیابی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ ہمارا چیلنج یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ملک کی امتیازی یونی ورسٹیوں کی صف میں شامل ہوں تاکہ آنے والی بہترین با حوصلہ خواتین رہنما میسر آسکیں ۔
میں امید کرتی ہوں کہ آپ لوگ میری اس جسارت کو سراہیں گے جس کا مقصد اولیٰ خواتین کو بااختیار بنانا ہے جن کا اظہار محمد علی جناح نے درج ذیل الفاط میں کیا ہے۔

دنیا میں دو طاقتیں ہیں۔ ایک تلوار اور دوسری قلم۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف صفِ آرا ہیں۔”
"دونوں ایک دوسرے کی نفی میں ہیں ایک تیسری قوت انِ دونوں سے زیادہ مضبوط ہے وہ ہے عورت کی طاقت‘

پروفیسرڈاکٹر فرحت سلیمی
رئیس الجامعہ
جی سی ویمن یونی ورسٹی، سیال کوٹ۔